Posts

Showing posts from September, 2021

مانگوں ‏تو ‏

”مانگو تو تُم کو دِیا جائے گا۔۔۔“ متی (7 : 7) پُرانے زمانے میں انگلیند میں ایک ہسپتال تھا جِس کا نام ”مُقدّس صلِیب کا ہسپتال“ تھا۔ کوئی بھی مُسافِر جو وہاں سے گُذرتا ہُوا دروازہ کھٹکھٹاتا اُسے ایک ڈبل روٹی مِل جاتی تھی۔ خُداوند یِسُوع گُناہ گاروں سے اِتنی مُحبّت رکھتا ہے کہ اُس نے بھی ایک ایسا ”مُقدّس صلِیب کا ہسپتال“ قائم کر رکھا ہے۔ جب کِسی گار کو بھُوک لگے تو اُسے صِرف دستک دینے کی ضرُورت ہے، اُس کی روٹی کی ضرُورت پُوری ہو جاتی ہے۔ بلکہ مسِیح نے اِس سے بھی زِیادہ کُچھ کِیا ہے۔ اُس نے صلِیب کے اِس ہسپتال کے ساتھ ایک حمام بھی تعمِیر کِیا ہے۔ گندے اور آلُودہ شخص کو صِرف وہاں جانے کی ضرُورت ہے تو اُسے پاک صاف کر دِیا جائے گا۔ پانی ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ کوئی بھی گُناہ گار وہاں جا کر مایوس نہیں ہُوا۔ ہر ایک کے تمام داغ دھو دِیئے گئے۔ چاہے اُس کے گُناہ قُرمزی یا ارغوانی کیوں نہ ہوں وہ برف کی مانِند سفید ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ اُس نے اِس ہسپتال کے ساتھ کپڑوں کی الماری بھی رکھّی ہے تاکہ جو گُناہ گار درخواست کرے اُس کو شاندار لِباس پہنایا جائے۔ اور اگر وہ سِپاہی بننا چاہے تو اُسے لِباس کے عِ...

kid Mood

بچوں کو نصیحت اس وقت کریں جب بچے receptive mood  میں ہوں ۔4 اوقات ایسے ہیں جب بچہ receptive mode میں ہوتا ہے اس وقت آپ   بچے کو جو بھی نصیحت کریں گے وہ بچے کے دل میں اتر جائے گی گا۔ (1) جب بچہ رات کو سونے لگے اس وقت بچہ learning mood  میں ہوتا ہے اسلیے اس وقت بچے کہتے ہیں ہمیں کوئ کہانی سنائیں مائیں بچوں کو بلی چوہوں کی کہانیاں سنا دیتی ہیں پھر بچوں میں بلی چوہوں والی حرکتیں آتی ہیں ۔اس وقت بچے کو نبیوں اور اور نیک لوگوں کے واقعات سنانے چاہیےجس میں اچھی نصیحتیں ہوں ۔تاکہ آپ کا بچہ بھی نیک بنے ۔ (2) جب بچہ آپکے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہو۔اس وقت بھی بچہ learning mode .میں ہوتا ہےاس لیےاس  وقت بچہ پوچھ رھا ہوتا ہے ابو یہ کیا ہے وہ کیسے ۔اسوقت ہم ڈانٹ ڈپٹ کر کے بچے کو چپ کروا دیتے ہیں وہ بہت قیمتی وقت ہوتا ہے  ۔اس وقت بچےسے اچھی باتیں کریں اور اچھی نصیحتیں کریں وہ آپ کی باتوں پر توجہ دے گا اور آپکی باتوں پر عمل کرے گا  ۔ (3)جب بچہ کھانے پے بیٹھے اس وقت بھی بچہ learningmode ہوتا اسوقت بھی آپ نصیحت کر سکتے ہیں ۔ (4)جب بچہ بیمار اس وقت بھی بچہ learning mod میں ہو...

تم یہ نہیں کرسکتے

 •         👈 *تم یہ نہیں کر سکتے* 👉 ایک گاؤں میں دو بچے رہتے تھے۔ایک کی عمر دس سال اور دوسرے کی چھے سال تھی۔ دونوں لنگوٹیے یار تھے۔ایک دن کھیلتے کھیلتے گاؤں سے تھوڑا باہر آ گئے۔ گاؤں سے باہر کھیلتے ہوئے دس سال کا بچہ کنویں میں گر گیا۔اور چیخنے چلانے لگا۔ چھے سال کے بچے نے ادھر ادھر دیکھا کوئی مدد کا امکان نظر نہ آیا تو اس نے کنویں پر رسی سے بندھا ڈول *(بالٹی)* نیچے پھینک دیا اور دوست کو کہا اس پکڑ کر رکھو۔۔اور خود پوری جان لگا کر کھینچنا شروع کر دیا۔۔چھے سالہ بچہ اس وقت تک کھینچتا رہا تھا جب اسی ڈول سے چمٹا اس کا دوست کنویں سے باہر نہ آ گیا۔۔دونوں دوست ایک دوسرے سے مل کر رو رہے تھے ، خوش ہو رہے تھے اور ڈر رہے تھے کہ گاؤں میں جا کر اگر بتائیں گے کہ ہم گاؤں سے باہر گئے تھے اور بڑا دوست کنویں میں گر گیا تھا تو بہت ڈانٹ ڈپٹ ہو گی مار پڑے گی۔۔لیکن سب کچھ اس کے برخلاف ہوا۔۔۔گاؤں میں کسی نے ان کی بات کا یقین نہ کیا اور سب یہی کہتے رہے کہ چھے سال کے بچے میں اتنا زور کہاں وہ دس سال کے بچے کو کنویں سے باہر کھینچ لے۔۔پورے گاؤں میں ایک ہی دانا شخص رحیم چاچا تھا جس نے...

پاکستان آور باہر کے حکمران

 *کافِر حکمران* ‏جرمنی نے اپنے لیڈر کو الوداع کہ دیا۔  وہ اپنی بالکونیوں پر باہر آئی اور انکے اعزاز میں پورے ملک میں  6 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں گئیں۔ اقتدار کے 16 سالوں میں اینجلا مرکل نے اپنے کسی بھی رشتہ دار کو ریاستی عہدے پر تعینات نہیں کیا۔  اس نے ریئل اسٹیٹ ، کاریں, پلاٹ اور نجی طیارے نہیں خریدے. ‏سولہ16 سال تک ، اس نے اپنی الماری کا انداز کبھی نہیں بدلا۔ ایک پریس کانفرنس میں ، ایک صحافی نے میرکل سے پوچھا: '' ہمیں احساس ہے کہ آپ نے وہی سوٹ پہنا ہوا ہے ، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟ '' اس نے جواب دیا: "میں سرکاری ملازم ہوں ، ماڈل نہیں۔  ‏پھر ایک اور صحافی نے پوچھا: "کپڑے دھونے کا کام کون کر رہا ہے ، آپ یا آپ کے شوہر؟" اس کا جواب تھا: "میں کپڑے ٹھیک کر رہی ہوں اور میرا شوہر وہ ہے جو واشنگ مشین چلاتا ہے۔" ایک اور پریس کانفرنس میں ، انہوں نے اس سے پوچھا:  "کیا آپ کے پاس ایک گھریلو ملازمہ ہے جو اپکا گھر صاف کرتی ہے ، کھانا تیار کرتی ہے ، وغیرہ۔" اس کا جواب تھا: "نہیں ، میرے کوئی نوکر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ضرورت ہے۔ میرے...