پاکستان یا جرمنی
دیستان کا تعلق بلجیئم سے تھا یہ 20 سال تک روزانہ کی بنیاد پر سرحد عبور کرکے جرمنی جاتا تھا. یہ اپنی سائیکل پر سرحد عبور کرتا بارڈر پر بیٹھی فورسز ان کی تلاشی لیتی سوائے ایک شاپر جس میں تھوڑی سی مٹی ہوتی ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا،فورسز مٹی سے بھرے شاپر کو کھنگالتی اور چھوڑ دیتی۔ یہ جس راستے سے جرمنی داخل ہوتا واپسی اس راستے سے نہیں آتا تھا. ان کی وفات کے بعد ان کی ڈائری ملی جس کے ایک صفحے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔ "میری بیوی بھی یہ بات نہیں جانتی ہے کہ میں بیس سال تک سائیکلیں سمگلنگ کرتا رہا ہوں" اپنی ذہانت سے بیس سال تک انہوں نے بارڈر سکیورٹی فورسز کو چکمہ دیا،یہ روزانہ نئی سائیکل جرمنی میں چھوڑ آتا تھا،اس دور میں سائیکل جرمنی میں نایاب تھیں اور تب شاید سائیکلیں آج کی گاڑیاں۔ ان کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے دشمن کے آگے ایسا ہدف شو کریں جو آپ کا ہدف نہیں ہے،اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے ہدف کا تعاقب کریں۔ ، اس شخص کو دنیا کا ذہین ترین سمگلر سمجھا جاتا ہے امیر علی شاہ ۔