اسلام اور مسلمان

”مَیں اُن میں۔۔۔“ (یُوحنّا 17 : 23) اگر ہم میں اور ہمارے خُداوند میں تعلُق اِتنا قریبی ہے تو رابطے کی ندی کِتنی چوڑی اور کِتنی گہری ہوگی! یہ کوئی تنگ سا نل نہِیں ہے جِس سے مشکل سے پانی کے چند قطرے نکل سکیں، بلکہ حیران کن حد تک چوڑی اور گہری ندی ہے جِس کی معرفت زِندگی کا پانی کثرت سے ہم تک پہنچتا ہے۔ دیکھو اُس نے ہمارے سامنے ایک دروازہ کھول رکھّا ہے۔ ہم اُس میں داخِل ہونے میں سُستی نہ کریں۔ رفاقت کے اِس شہر کے بہُت سے پھاٹک ہیں۔ ہر ایک پھاٹک مَوتی کا ہے اور پُوری طرح کھلا ہوا تاکہ استقبال کا یقین کرکے ہم دلیری سے داخِل ہوجائیں۔ اگر مسِیح کے ساتھ بات کرنے کے لئے صِرف ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا تو یہ بھی ہمارے لِئے بڑا اعزاز ہوتا۔ ہم کتنے خُوش قسمت ہیں کہ رفاقت کا بڑا دروازہ بالکل کھُلا ہے۔ اگر خُداوند یِسُوع ہم سے بُہت دُور ہوتا یہاں تک کہ اُس کے اور ہمارے درمِیان تُند و تیز سمندر حائل ہوتا تو ہم آرزُو کرتے کہ کِسی پیغام کی معرفت اُسے اپنی محبّت کا یقین دلائیں اور اُس کی طرف سے کوئی خَبر مِلے۔ لیکِن ذرا اُس کی شفقت کو دیکھیں۔ اُس نے اپنا گھر ہمارے پڑوس میں بنایا بلکہ وہ ہمارے اِس سے بھی زیادہ قریب آگیا۔ وہ ہمارے غرِیب دِلوں میں رہتا ہے تاکہ ہمارے ساتھ متواتر رفاقت رکھے۔ ہم کتنے بڑے احمق ہوں گے اگر برابر اُس کی رفاقت میں زِندگی نہ گُزاریں! اگر ہمارے دوست ہم سے دُور رہتے ہیں تو ہم تعّجُب نہِیں کرتے کہ ہمیں کم ہی ملتے ہیں۔ لیکِن اگر ساتھ ہی رہتے ہوں تو کیا ہم اُن سے متواتر نہ ملیں؟ اگر خُداوند کِسی دُور کے مُلک میں ہوتو اُس کی بیوی دیر تک اُس سے بات نہ کرنے کو برداشت کر لے گی، لیکِن اگر وہ ساتھ والے کمرے میں ہوتو اُس سے زیادہ دیر تک الگ رہنا گوارا نہِیں کرے گی۔ اَے اِیماندار، آپ کِیُوں اُس کی ضیافت میں شرِیک نہِیں ہوتے؟ اپنے خُداوند کی رفاقت سے لُطف اندوز ہوں کِیُونکہ وہ آپ کے قریب ہے، وہ آپ کا بھائی ہے۔ اُس سے لپٹے رہیں کِیُونکہ وہ آپ کا خُداوند ہے۔ اُسے دِل سے لگائیں کِیُونکہ آپ اُسی کے بَدن کا عضُو ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

ہمارا بھی ایک زمانہ تھا

پاکستان آور باہر کے حکمران

پاکستان یا جرمنی