انجام

 ”کسی بات کا اِنجام اُس کے آغاز سے بہتر ہے۔۔۔“ )واعظ (8 : 7




ذرا داؤد کے خُداوند اور مالِک پر نظر کریں۔ اُس کے آغاز کو دیکھیّں۔ وہ ”حقِیر و مردُور، مردِ غمناک اور رنج آشنا تھا۔“ اب اُس کے اِنجام پر نظر کریں۔ وہ اپنے باپ کی دہنی طرف بیٹھے ہُوئے اِس اِنتظار میں ہے کہ اُس کے دُشمن اُس کے پاؤں تلے کی چوکی بنیں۔ ”جیسا وہ ہے ویسے ہی دُنیا میں ہم بھی ہیں“ )1 – یُوحنا .(17 : 4 آپ کو صلِیب اُٹھانے کی ضرُورت ہے، ورنہ کبھی تاج پہننے کا شرف حاصِل نہیں ہوگا۔ آپ کو اِس دُنیا کی کِیچڑ سے گُذرنا ہے، ورنہ آنے والے جہان کی سُنہری سڑکوں پر چلنے کی توفِیق نہیں ملے گی۔ اِس لِئے ہمت کریں۔ کسی بات کا انجام آغاز سے بہتر ہے۔



تِتلی کی پہلی صُورت کو دیکھیّں۔ وہ زمین پر رینگنے والا حقِیر سا کیڑا ہوتی ہے۔ یہ اِس کا آغاز ہے۔ اب اِس میں سے نِکلتی ہُوئی تِتلی پر نظر کریں۔ کتنی خُوبصُورت ہے! ایک پھُول سے دُوسرے کی طرف اُڑتی ہُوئی وہ ہمارے دِل کو کِتنا بہلاتی ہے! یہ اِس کا اِنجام ہے۔ ہم تِتلی کی پہلی کیڑے والی صُورت ہیں۔ اور جب مسِیح ”ظاہِر ہوگا تو ہم بھی اُس کی مانِند ہوں گے کیونکہ اُس کو ویسا ہی دیکھیّں گے جیسا وہ ہے“ )1 – یُوحنا .(2 : 3 اِس زمین پر اُس کی مانِند حقِیر سا کیڑا بننے پر راضی ہوں، تاکہ آپ اگلے جہان میں اُس کے ہم شکل ہو کر جاگ اُٹھیں۔



خام ہیرا بے شکل اور کھُردار ہوتا ہے۔ لیکن نگِینہ ساز اُسے ہر طرف سے کاٹ کر اُس کی خُوبصُورت اور دمکتی شکل عطا کرتا ہے۔ اُس کا بہت کُچھ کاٹا جاتا ہے جو ظاہِری طور پر قِیمتی لگتا ہے۔ بعد میں وہی ہیرا بادشاہ کی زِینت کا باعِث ہوتا ہے اور اُنہی ہیروں سے آراستہ تاج بادشاہ پہنتا ہے۔ اور اُسی ہیرے کی بے مِثال دمک دُور سے نظر آتی ہے جِس کا نگِینہ ساز کی دُکان میں بہت کُچھ کاٹا گیا تھا۔ آپ بھی اِس ہیرے کی مانِند ہیں کیونکہ آپ خُدا کے لوگوں میں سے ہیں۔ موجُودہ وقت ہم میں سے فالتو چِیزوں کو کاٹنے کا موقع ہے۔ اِسے صبر سے برداشت کریں، کیونکہ یہی طرِیقہ ہے ک بعد میں بادشاہوں کے بادشاہ کے تاج کی زِینت کا باعِث بنیں

، امیر علی شاہ 


Comments

Popular posts from this blog

ہمارا بھی ایک زمانہ تھا

پاکستان آور باہر کے حکمران

پاکستان یا جرمنی